Protests continue across the United States over the death of a black man
WASHINGTON: Protests continue across the United States over the death of a black man, with new provisions being imposed against all fired police officers. A murder case has been filed against a man who strangled a man, with former President Barack Obama saying the protests have created an opportunity for change in the United States.
The death of black George Floyd has sparked an uproar in the United States over racial discrimination, with murder charges being added to the case against a knee-jerk officer, and fellow police officers accused of aiding and abetting murder. Has been imposed.
George's family lawyer says it is an important step towards justice as important action is being taken before Floyd's last rites.
They chanted slogans in favor of George and against the government, former US President Barack Obama said the protests created an opportunity for change in the United States, he told black youth that you are very important to the United States. ۔
Former Secretary of Defense James Mattis has condemned President Trump, saying he has divided the people and failed to lead well. The New York Times writes that President Trump uses the military to show his manhood.
People also protested in front of the US embassy in Nairobi, the capital of Kenya, against the killing of a black American citizen. Youths protest George's death in Cape Town, South Africa. Demonstrations in favor of George Floyd also took place in Britain, France and Argentina.
واشنگٹن: سیاہ فام شہری کی ہلاکت پر امریکا بھر میں مظاہرے جاری ہیں، برطرف تمام پولیس اہلکاروں کے خلاف نئی دفعات عائد کر دی گئیں۔ گردن دبانے والےاہلکار کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا، سابق صدر باراک اوباما نے کہا کہ مظاہروں نے امریکا میں تبدیلی کا موقع پیدا کر دیا ہے۔
سیاہ فام جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد امریکہ میں نسلی امتیاز کے خلاف ہنگامہ برپا ہے، گھٹنے سے گردن دبانےوالے اہلکار کےخلاف مقدمے میں قتل کی دفعات شامل کر لی گئیں، ساتھی پولیس اہلکاروں پر بھی قتل میں مدد کرنے اور قتل کی حوصلہ افزائی کرنے الزام عائد کیا گیا ہے۔
جارج کے خاندانی وکیل کا کہنا ہے یہ انصاف کی راہ پر ایک اہم قدم ہے کہ فلائیڈ کے آخری رسومات سے قبل اہم کارروائی کی جارہی ہے، لاس اینجلس میں نئی دفعات کے درج ہونے کے بعد لاکھوں افراد سرکاری عمارت کے سامنے جمع ہو گئے۔
انہوں نے جارج کے حق میں اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی، سابق امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے مظاہروں نے امریکا میں تبدیلی کا موقع پیدا کر دیا ہے، انہوں نے سیاہ فام نوجوانوں سے کہا ہے کہ آپ امریکا کے لیے بہت اہم ہیں۔
صدر ٹرمپ کے سابق وزیر دفاع جیمز میٹس نے ان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے لوگوں کو تقسیم کیا اور وہ اچھی قیادت کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی مردانگی دکھانے کے لیے ملٹری کا استعمال کرتے ہیں۔
کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں بھی امریکی سفارت خانے کے سامنے لوگوں نے امریکی شہری سیاہ فام کی ہلاکت کے خلاف مظاہرہ کیا۔ جنوبی افریقا کے شہر کیپ ٹاؤن میں جارج کی ہلاکت کے خلاف نوجوانوں نے احتجاج کیا۔ برطانیہ، فرانس اور ارجنٹینا میں بھی جارج فلائیڈ کے حق مظاہرے کئے گئے۔
Comments
Post a Comment